کراچی دریائے سندھ کے کنارے بحیرۂ عرب
کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ ڈویژن 24 سے 25 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66 سے 67 ڈگری مشرقی
طول البلد کے درمیان واقع ہے۔ کراچی کے شمال مشرق میں ضلع دادو، جنوب مشرق میں ضلع
ٹھٹھہ شمال مغرب میں ضلع لسبیلہ اور اس کے جنوب اور جنوب مغرب میں بحیرۂ عرب ٹھاٹھیں مار رہا
ہے۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ کسی زمانے
میں ہاتھ آئی لینڈ، کلفٹن اور گزری کے علاقے بھی جزیرے تھے جو بعد میں سمندری پانی
کے ہٹ جانے کی وجہ سے کراچی کے دوسرے علاقوں سے مل گئے تھے۔ میجر ریورٹی (Major Ravrty) کے مطابق تین صدیوں میں یعنی
1591ء سے 1877ء تک سمندر کراچی سے کافی پیچھے ہٹ چکا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
محمود آباد، منظور کالونی اور اعظم بستی کے علاقوں کی مٹی میں اب بھی سیپیاں، گھونگھے
اور سنکھ پائے جاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علاقے کسی زمانے میں سمندر کا
حصہ تھے۔
کراچی شہر کے درمیان سے لیاری اور ملیر
ندیاں بہتی ہیں۔ لیاری ندی کی دو شاخیں ہیں جو گجرد اور اورنگی کہلاتی ہیں۔ ملیر ندی
گزری کے نزدیک بحیرۂ
عرب
میں جا گرتی ہے۔ حب ندی کراچی کے قریب سے گزرنے والی ایک اہم ندی ہے۔
کراچی میں کوئی قابلِ ذکر پہاڑی سلسلہ
موجود نہیں ہے۔ البتہ کراچی کے مغربی کنارے پر ایک پہاڑی سلسلہ واقع ہے جو بلوچستان
تک چلا گیا ہے۔
کراچی ڈویژن میں جنگلات کے دو خطے واقع
ہیں۔ ان میں سے ایک دھابیجی میں ہے جو 1308972 ایکڑ علاقے پر پھیلا ہوا ہے، دوسرا خطہ
تھانہ بولاخان کے علاقے میں 392810 ایکڑ علاقے پر محیط ہے، ان جنگلات میں خار، کیکر
اور بر کے درخت پائے جاتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment