کراچی کی
تاریخ بڑی پرانی ہے۔ اس کے سفر کا آغاز برفانی دور سے لے کر پتھر، لوہے، تانبے سے ہوتے
اسلامی دور تک آپہنچتا ہے۔ آج بھی کراچی میں بعض مقامات پر کھدائی سے دریافت ہونے والے
آثار سے کراچی کی قدامت کا مزید اندازہ لگایا جارہا ہے۔
یہاں تاریخ
کے ہر دور کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ مثلاً لانڈھی کے قریب واقع چٹانوں کے قرب و جوار
سے پتھر کے بنے ہوئے اوزار اور اِسی طرح کراچی یونیورسٹی کے قریب بھی ایسے ہی کچھ آثار
ملے ہیں۔ دراصل ہر دور میں اِس خطے کے آباد ہونے کی وجہ دریائے
سندھ کا دہانہ اور سمندری تجارتی راستے ہیں۔
چناں چہ
تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ برِصغیر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد سکندرِ اعظم
شمال مغربی ہندوستان سے ہوتے ہوئے پنجاب اور پھر دریائے سندھ کے راستے سے سندھ میں
داخل ہوا۔ دریائے سندھ کے دہانے کے مغربی حصے میں سمندری مدوجزر کا عجیب تماشا سامنے
آیا جس سے سکندری بحری بیڑے کو شدید طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس بحری بیڑے میں موجود
مقامی گائیڈز نے اُن دو قریبی جزیروں کا راستہ بتایا جو آج بھی کلفٹن اور گزری کے
نام سے مشہور ہیں۔ یہاں سکندرِ اعظم کے کچھ راجاؤں سے معمولی مقابلے ہوئے جس کے بعد
پورا سندھ سکندرِ اعظم کے ہاتھ میں آگیا۔
محققین
کے مطابق سکندر نے سندھ میں اپنا ایک گورنر مقرر کرکے اپنے وطن یونان کی جانب براستہ
خشکی، سفر اختیار کیا۔ روانہ ہونے سے قبل اپنے ایک جرنیل نیارکس کے نام حکم نامہ جاری
کیا جس کے تحت اُسے بحیرۂ
عرب
پہنچنا تھا۔ نیارکس نے ایسا ہی کیا، مگر سمندر میں زبردست طغیانی کے سبب وہ سفر کرتا
ہوا ایک قدرتی بندرگاہ تک پہنچ گیا۔ نیارکس کا بحری بیڑہ ایک سو پچاس کشتیوں پر مشتمل
تھا، اُسے یہ بندرگاہ اتنی پسند آئی کہ اس کا نام اپنے آقا کے نام پر ”سکندری جنت“
رکھ دیا۔ اس وقت کراچی ایک چھوٹی سی مچھیروں کی بستی ہوا کرتی تھی۔
بہرحال
جب موسم سازگار ہوا تو اپنے آقا کے حکم کے مطابق بلوچستان کی جانب روانہ ہوا، مگر صحراؤں
کی تپش اور ڈاکوؤں کی افتاد نے پے در پے نقصان پہنچا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت
کراچی پر ایک عورت حکومت کرتی تھی جس کی وجہ سے اسے ”مورون ٹوبارا“ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ لفظ دراصل یونانی زبان کا ہے جس کے معنی ”عورت کی بندرگاہ“ کے ہیں۔
حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کی ولادت سے قبل سندھ میں ململ کا نفیس کپڑا تیار کیا جاتا تھا۔ مشہور
ہے کہ قدیم مصر کے لوگ اپنے مُردوں کو اسی کپڑے کا کفن پہناتے تھے۔ پروفیسر ایچ شمسی
کے مطابق چار سو سال قبل سندھ میں تیار کی جانے والی ململ ایران، بابل اور مصر براستہ
کراچی بندرگاہ برآمد کی جاتی تھی۔