Sunday, November 19, 2017

History of Karachi

کراچی کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ اس کے سفر کا آغاز برفانی دور سے لے کر پتھر، لوہے، تانبے سے ہوتے اسلامی دور تک آپہنچتا ہے۔ آج بھی کراچی میں بعض مقامات پر کھدائی سے دریافت ہونے والے آثار سے کراچی کی قدامت کا مزید اندازہ لگایا جارہا ہے۔
یہاں تاریخ کے ہر دور کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ مثلاً لانڈھی کے قریب واقع چٹانوں کے قرب و جوار سے پتھر کے بنے ہوئے اوزار اور اِسی طرح کراچی یونیورسٹی کے قریب بھی ایسے ہی کچھ آثار ملے ہیں۔ دراصل ہر دور میں اِس خطے کے آباد ہونے کی وجہ دریائے سندھ کا دہانہ اور سمندری تجارتی راستے ہیں۔
چناں چہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ برِصغیر میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد سکندرِ اعظم شمال مغربی ہندوستان سے ہوتے ہوئے پنجاب اور پھر دریائے سندھ کے راستے سے سندھ میں داخل ہوا۔ دریائے سندھ کے دہانے کے مغربی حصے میں سمندری مدوجزر کا عجیب تماشا سامنے آیا جس سے سکندری بحری بیڑے کو شدید طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس بحری بیڑے میں موجود مقامی گائیڈز نے اُن دو قریبی جزیروں کا راستہ بتایا جو آج بھی کلفٹن اور گزری کے نام سے مشہور ہیں۔ یہاں سکندرِ اعظم کے کچھ راجاؤں سے معمولی مقابلے ہوئے جس کے بعد پورا سندھ سکندرِ اعظم کے ہاتھ میں آگیا۔
محققین کے مطابق سکندر نے سندھ میں اپنا ایک گورنر مقرر کرکے اپنے وطن یونان کی جانب براستہ خشکی، سفر اختیار کیا۔ روانہ ہونے سے قبل اپنے ایک جرنیل نیارکس کے نام حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت اُسے بحیرۂ عرب پہنچنا تھا۔ نیارکس نے ایسا ہی کیا، مگر سمندر میں زبردست طغیانی کے سبب وہ سفر کرتا ہوا ایک قدرتی بندرگاہ تک پہنچ گیا۔ نیارکس کا بحری بیڑہ ایک سو پچاس کشتیوں پر مشتمل تھا، اُسے یہ بندرگاہ اتنی پسند آئی کہ اس کا نام اپنے آقا کے نام پر ”سکندری جنت“ رکھ دیا۔ اس وقت کراچی ایک چھوٹی سی مچھیروں کی بستی ہوا کرتی تھی۔
بہرحال جب موسم سازگار ہوا تو اپنے آقا کے حکم کے مطابق بلوچستان کی جانب روانہ ہوا، مگر صحراؤں کی تپش اور ڈاکوؤں کی افتاد نے پے در پے نقصان پہنچا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت کراچی پر ایک عورت حکومت کرتی تھی جس کی وجہ سے اسے ”مورون ٹوبارا“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ دراصل یونانی زبان کا ہے جس کے معنی ”عورت کی بندرگاہ“ کے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے قبل سندھ میں ململ کا نفیس کپڑا تیار کیا جاتا تھا۔ مشہور ہے کہ قدیم مصر کے لوگ اپنے مُردوں کو اسی کپڑے کا کفن پہناتے تھے۔ پروفیسر ایچ شمسی کے مطابق چار سو سال قبل سندھ میں تیار کی جانے والی ململ ایران، بابل اور مصر براستہ کراچی بندرگاہ برآمد کی جاتی تھی۔

Friday, November 10, 2017

Names of Karachi

            کراچی دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے ماضی میں 30 سے زیادہ ناموں سے پکارا گیا ہے۔ یہ نام اس طرح ہیں:
            کردکالا                           سکندری جنت                              مورون ٹوبارا
            دربو                               خورالدیبل                                   خورعلی
            دیبل                              قلاچی                                         قلاچی جو گوٹھ
            قلاچی جوکن                     قلاچی جو کنڈ                                خراچی
            کلکرالا                            کراشیر                                       قلاقی بندر
            کردکالی                           کرنجی                                         کورا
            کردکانا                            دھاروجا                                     کراشی
            کھوراجی                           کراچر                                         کورنجی
            کامارا                            گھراچر                                        داراجا
            کراچو جو گوٹھ                 کراچے ٹان                              کوراچی (Kurrachee)
            انیسویں صدی کے وسط تک کراچی میں مختلف کمپنیوں کے دفاتر قائم ہوچکے تھے۔ اس وقت تک کراچی کا کوئی ایک نام مقرر نہیں تھا چنانچہ مختلف ادارے اس کا مختلف نام تحریر کرتے تھے۔ 1860ءمیں جب کراچی میں چیمبر آف کامرس کا قیام عمل میں آیا تو اس نے اس شہر کو پہلی مرتبہ ”کراچی“ کا نام دیا۔ چونکہ کراچی کے تمام تجارتی اور صنعتی ادارے چیمبر آف کامرس کے ممبر تھے چنانچہ یہ نام ان سب کا نمائندہ بن گیا۔ حکومت نے بلاجھجک اس نام کو منظور کرلیا اور تمام سرکاری و نجی اداروں کو اس شہر کا نام ”کراچی“ لکھنے کا پابند کردیا گیا۔

کراچی کا جغرافیہ

            کراچی دریائے سندھ کے کنارے بحیرۂ عرب کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ ڈویژن 24 سے 25 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66 سے 67 ڈگری مشرقی طول البلد کے درمیان واقع ہے۔ کراچی کے شمال مشرق میں ضلع دادو، جنوب مشرق میں ضلع ٹھٹھہ شمال مغرب میں ضلع لسبیلہ اور اس کے جنوب اور جنوب مغرب میں بحیرۂ عرب ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
            یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ کسی زمانے میں ہاتھ آئی لینڈ، کلفٹن اور گزری کے علاقے بھی جزیرے تھے جو بعد میں سمندری پانی کے ہٹ جانے کی وجہ سے کراچی کے دوسرے علاقوں سے مل گئے تھے۔ میجر ریورٹی (Major Ravrty)  کے مطابق تین صدیوں میں یعنی 1591ء سے 1877ء تک سمندر کراچی سے کافی پیچھے ہٹ چکا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ محمود آباد، منظور کالونی اور اعظم بستی کے علاقوں کی مٹی میں اب بھی سیپیاں، گھونگھے اور سنکھ پائے جاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علاقے کسی زمانے میں سمندر کا حصہ تھے۔
            کراچی شہر کے درمیان سے لیاری اور ملیر ندیاں بہتی ہیں۔ لیاری ندی کی دو شاخیں ہیں جو گجرد اور اورنگی کہلاتی ہیں۔ ملیر ندی گزری کے نزدیک بحیرۂ عرب میں جا گرتی ہے۔ حب ندی کراچی کے قریب سے گزرنے والی ایک اہم ندی ہے۔
            کراچی میں کوئی قابلِ ذکر پہاڑی سلسلہ موجود نہیں ہے۔ البتہ کراچی کے مغربی کنارے پر ایک پہاڑی سلسلہ واقع ہے جو بلوچستان تک چلا گیا ہے۔
            کراچی ڈویژن میں جنگلات کے دو خطے واقع ہیں۔ ان میں سے ایک دھابیجی میں ہے جو 1308972 ایکڑ علاقے پر پھیلا ہوا ہے، دوسرا خطہ تھانہ بولاخان کے علاقے میں 392810 ایکڑ علاقے پر محیط ہے، ان جنگلات میں خار، کیکر اور بر کے درخت پائے جاتے ہیں۔

KARACHI INTRODUCTION

            کراچی جسے فخرِ مشرق کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، بلاشبہ آج دُنیا کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس شہر کی آبادی میں قیامِ پاکستان کے بعد جس تیز رفتاری سے اضافہ ہوا، اس کی مثال دُنیا کا کوئی اور شہر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

            14 اگست 1947ءکو یہ شہر اسی سرزمین کے ایک مایہ ناز سپوت محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کے نتیجے میں قائم ہونے والی آزاد اسلامی مملکت پاکستان کا دارالخلافہ قرار پایا۔


            آج یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز ہے۔ 1991ءکے ایک معاشی سروے کے مطابق ملک کی سینتالیس فی صد صنعتیں کراچی میں قائم ہیں جن میں ملک بھر کی بیالیس فی صد افرادی قوت مصروفِ عمل ہے۔ حکومت پاکستان کو ٹیکسوں کی مد میں موصول ہونے والی کل آمدنی کا ساٹھ فی صد حصہ تنہا کراچی مہیا کرتا ہے۔

History of Karachi

کراچی کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ اس کے سفر کا آغاز برفانی دور سے لے کر پتھر، لوہے، تانبے سے ہوتے اسلامی دور تک آپہنچتا ہے۔ آج بھی کراچی میں بع...